5 فروری 2012 - 20:30

بریسلزمیں افغانستان کےوزرائےدفاع کےاجلاس کےانعقاد نےایک بارپھر افغانستان پرقبضہ برقرار رکھنےکےبارےمیں نیٹوکےاراکین میں اختلافات کواجاگرکردیااور اس سےثابت ہوتاہے کہ نیٹوکےرکن ممالک میں افغانستان پرقبضہ برقرار رکھنےکےبارےمیں اختلاف پایاجاتاہے۔

ابنا: نیٹوکےرکن ممالک کےدرمیان اختلافات نے نیٹوکوافغانستان میں اپنی فوجی پالیسی پرنظرثانی کرکےاپنےفوجی اخراجات میں کمی لانے پرمجبور کردیاہے۔افغانستان میں فرانس سمیت نیٹو کوہونےوالےجانی نقصان میں اضافےکی وجہ سے وہ دوہزارچودہ سےپہلے ہی افغانستان سےباہرنکلنےکااعلان کرنےپرمجبورہوگئےہیں۔

نیٹو کےجنرل سکریٹری آندرس فوگ راسموسن نےجمعہ کےدن اعلان کیا کہ افغانستان میں ماہرفوجیوں کی ٹریننگ ہمارےلئے مناسب آپشن ہے تاکہ ہم افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کواستعمال کرسکیں۔نیٹوحکام دعوی کررہےہیں کہ افغانستان جس میں اپنی سیکورٹی کےلئے سالانہ چھھ ارب ڈالر خرچ کرنےکی طاقت نہيں ہے دوہزارچودہ کےبعد بھی نیٹو کی مدد کی امید لگائےہوئےہے۔

نیٹو اور امریکہ کےرکن ممالک ، بجٹ خسارے اور حکومتی قرضےسمیت بہت سےمسائل سےدوچارہيں۔درایں اثناامریکہ میں صدارتی انتخابات نزدیک ہونےکےسبب وہائٹ ہاؤس افغانستان میں اپنےفوجیوں کوپھر سے منظم کرناچاہتاہے اورممکن ہے امریکی وزیرجنگ پینیٹا دوہزارتیرہ تک امریکی فوجیوں کےافغانستان سےنکلنےکااعلان کرکےانتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کی پوزیشن مضبوط بناناچاہتےہوں ۔

سیاسی ماہرین کی نظرميں جانی نقصان کےساتھ ہی یورپی حکومتوں کودرپیش اقتصادی مسائل اور اخراجات نیز دس برسوں تک افغانستان پرقبضےکےباوجود فوجی پالیسیوں کی ناکامی نےاسےافغانستان سےبھاگنےپرمجبورکردیاہے اوراس چیزنے افغانستان کےنسلی ، مذہبی اورسیاسی گروہوں اورحکومت کواپنےدرمیان اتحاد ویکجہتی کومضبوط بناکراپنےملک کی آئندہ تبدیلیوں پرمثبت اثرات مرتب کرنےکاموقع فراہم کرنےکےساتھ ہی قابضوں کی جانب سے افغانستان کاسیاسی خطوط معین کئےجانےکاعمل روک سکتاہے۔

قطر میں طالبان کےساتھ امریکہ کےمذاکرات کااسی تناظرمیں جائزہ لیاجاسکتاہے جس کی افغانستان میں بڑےپیمانےپرمخالفت ہورہی ہے۔اسی بنا پر پاکستان کی وزیرخارجہ حناربانی نے اپنےدورہ افغانستان کےموقع پر سب سےبڑی اپوزیشن جماعت قومی اتحاد کےرہنماعبداللہ عبداللہ سےملاقات میں امن کےعمل میں تمام جہادی گروہوں کوشامل کئےجانےکامطالبہ کیاہے۔ ........

/169